Home facts about pakistan What is Tosha Khana-توشہ خانہ کیا ہے

What is Tosha Khana-توشہ خانہ کیا ہے

توشہ خانہ پاکستان

by moeedrajpoot
What is Tosha Khana-توشہ خانہ کیا ہے

What is Tosha Khana-توشہ خانہ کیا ہے

You must have heard the name of Tosha Khana or State Repository time and again throughout this whole affair. It is actually a government department where valuable gifts received by rulers or other high officials on visits to other states are collected.

During any foreign visit, the officials of the Ministry of External Affairs register these gifts and upon returning to the country, they are deposited in the Tosha Khana.

Gifts collected here are kept as souvenirs or sold with the approval of the Cabinet.

توشہ خانہ یا سٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔

کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔

یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

According to the laws of Pakistan, if a gift is worth less than 30,000 rupees, the person receiving the gift can keep it for free.

But the gifts which cost more than 30 thousand can be purchased by depositing 50% of the fixed price. Before 2020, this rate was 20%, but during the Tehreek-e-Insaaf era, it increased from 20% to 50%.

These gifts usually include expensive watches, gold and diamond jewellery, various decoration pieces, souvenirs, diamond studded pens, crockery and rugs.

پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے کم کا ہے تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اسے مفت میں اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

لیکن جن تحائف کی قیمت 30 ہزار سے زائد ہوتی ہے، انھیں اس تحفے ک قیمت کا 50 فیصد جمع کروا کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 2020 سے پہلے یہ تحفے 20 فیصد رقم ادا کر کے لئے جا سکتے تھے لیکن تحریک انصاف کے دور میں اسے 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا تھا۔

ان تحفوں میں عام طور پر مہنگی گھڑیاں، سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت، مخلتف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین اور مختلف مہنگی اشیاء وغیرہ شامل ہیں۔

What is the procedure for auctioning these gifts?

ان تحائف کی نیلامی کا طریقۂ کار کیا ہے؟

Gifts can be sold only under the rules made by the government.

If a head of state wants, he can keep a gift he receives by paying a certain amount, but in Pakistan and India, such gifts are also auctioned and the money obtained from it goes to the state treasury.

According to Cabinet Division officials, this auction is supposed to be held every year, but it is not possible on an annual basis because the visits of heads of state and ministers during a year do not receive enough gifts to hold an auction every year.

The gifts received by the Heads of State and Ministers and after their registration in the Tosha Khana, their market value is regularly determined by the State Bank and auctioned.

According to officials, if the heads of state or ministers do not keep these gifts, then a list of these gifts is prepared and presented for auction to civil servants and army officers as per Tosha Khana rules.

The auction price is again determined by FBR and State Bank and some of these items are priced slightly below the market value while some gifts received from a particular head of state are valued. And under premium value, they are priced higher than the market.

According to the Tosha Khana rules, the first claim on these gifts is to the one who receives the gift, if they do not take it, then an auction is held for government employees and army personnel. If the items are left over from this auction, they are auctioned to the general public.

Any military or government employee who buys these valuables has to declare their sources of income and pay applicable taxes.


یہ تحفے حکومت کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔

اگر کوئی ملک کا کوئی سربراہ چاہے تو وہ ملنے والے کسی بھی تحفے کو ایک خاص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتا ہے مگر پاکستان اور انڈیا میں ایسے تحفوں کی نیلامی بھی کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ حکومت کے خزانے میں جاتا ہے۔

کابینہ ڈویژن کے حکام کے مطابق یہ نیلامی ہر سال ہونا ہوتی ہے لیکن سالانہ بنیادوں پر ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ہر سال اتنے تحفے نہیں ملتے کے نیلامی کروائی جا سکے ۔۔

سربراہان مملکت اور وزیروں کو ملنے والے تحفوں اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ قیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور نیلامی کی جاتی ہے۔

قانون کے مطابق اگر سربراہان مملکت یا وزیر یہ تحفے نہیں رکھتے تو پھر ان تحفوں کی لسٹ بنا کر ان کو سرکاری ملازمین ارو فوجی افسران کو نیلامی کیلئے پیش کیا جاتا ہے

نیلامی کی قیمت کا اندازہ دوبارہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے لگوایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے جبکہ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہو ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کے تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔

توشہ خانہ قوانین کے مطابق ان تحفوں پر پہلا حق اس کا ہوتا ہے جس کو یہ تحفے ملے ہوتے ہیں اگر وہ نہیں لیتے تو پھر دوسرے سرکاری افسران کیلئے نیلامی کی جاتی ہے اور جو تحفے بچ جاتے ہیں انہیں عام عوام کیلئے پیش کر دیا جاتا ہے

جو بھی افسران یہ تحفے خریدتے ہیں انہیں ف بی آر کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

read more about pakistan:https://factslover.com/facts-about-pakistan/

follow us on twitter:https://twitter.com/facts_loverr

You may also like

Leave a Comment